تھر پاور کمپنی لمیٹڈ

سال کے دوران فنانشل کلوز کے حوالے سے مضبوط اور سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی کامیابی حاصل ہوئی۔ای پی ٹی ایل نے نیپرا سے 18مارچ 2015ء کو جنریشن لائسنس حاصل کیا۔اس کے بعد ای پی ٹی ایل نے 17 اپریل 2015ء کوپرائیویٹ پاوراینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کی جانب سے لیٹر آف سپورٹ حاصل کیا۔4 مئی 2015ء کو ای پی ٹی ایل نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپچچ کمپنی کے ساتھ پاور پرچیز معاہدہ (پی پی اے)کیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ عمل درآمد اگریمنٹ (آئی اے) اورسپلیمنٹ آئی اے معاہدے کئے۔ای پی ٹی ایل نے 7 جون 2015ء کو سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ساتھ کوئلہ سپلائی کے معاہدے پر دستخط کئے۔بنیادی انجینئرنگ کی اسٹڈی شروع کی گئی اور سال کے دوران ابتدائی جیو ٹیکنیکل اور ٹوپوگراف سروے بھی مکمل کئے گئے ۔سی ایم ای سی نے جیو ٹیکنیکل اور ٹاپگرافک سروے مکمل کیا ہے۔ CMECنے پاور پلانٹ کی سائٹ کے حوالے سے جیو ٹیکنیکل اور ٹوپوگرافک سروے مکمل کئے۔سائٹ پر 96 بور ہولز (50 میٹر تک گہرائی) بھی کرلی گئی ۔CMEC نے بجلی پلانٹ کی سائٹ پر پائلنگ جانچ کی ایکٹیوٹی شروع کی ہے اورآٹھ بور سوراخ مکمل ہوگئے ہیں۔سال کے دوران ای پی ٹی ایل نے مقامی اور غیر ملکی فنانشل اداروں کے ساتھ فنانسنگ کے معاہدوں پر دستخط کئے اور شیئر ہولڈنگ اسٹرکچر کوحتمی شکل دی۔ای پی ٹی ایل کے منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 1,108ملین ڈالر ہے جس میں سے 831ملین ڈالر قرض کی شکل میں حاصل کئے جائیں گے جبکہ 277ملین ڈالر 75:25تناسب کی شرح کے مطابق حصص فروخت سے حاصل کئے جائیں گے۔اینگرو پاور جن لمیٹڈ منصوبے میں تجویز کردہ 51فیصد اکثریتی عام حصص کی مالک ہوگی باقی حصص CMEC تھر پاور انوسٹمنٹ لمیٹڈ اور دیگر مقامی سرمایہ کاروں (حبیب بینک لمیٹڈ اور لبرٹی ملز)کی ملکیت ہونگے۔21 دسمبر 2015ء کو بڑے مالی معاہدوں پر عملدرآمد کیا گیا۔فنانشل کلوز اور قرض کی توثیق سیکورٹی دستاویزات، ضمانت جاری کرنے اور قانونی رسمی اداروں تکمیل کرنے کے بعد متوقع ہے۔